پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) نے صوبے بھر میں ٹیکس چوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے اور معاشی معاملات میں شفافیت لانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ ڈسٹرکٹ نیوز میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب بھر کے تمام ہوٹلز، ریسٹورنٹس، اور شادی ہالز کے مالکان کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گاہکوں کو ہاتھ سے لکھی ہوئی کچی رسیدیں فراہم کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں۔ اب ان تمام کاروباری مراکز کے لیے لازم ہے کہ وہ صرف کمپیوٹرائزڈ رسیدیں جاری کریں جو براہ راست پی آر اے (PRA) کے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہوں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد ان کاروباری اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے جو ہاتھ سے لکھی رسیدوں کا سہارا لے کر روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے ٹیکس کی چوری کر رہے تھے۔ یہ ٹیکس چوری نہ صرف صوبائی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہی تھی بلکہ اس سے دستاویزی معیشت کے فروغ کی حکومتی کوششوں کو بھی دھچکا لگ رہا تھا۔ اس نئی پالیسی کے نافذ ہونے سے سیلز ٹیکس کی وصولی میں شفافیت آئے گی اور حکومتی محاصل میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے واضح وارننگ جاری کی گئی ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ہوٹل، ریسٹورنٹ یا شادی ہال کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کارروائی میں بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ کاروبار کو سیل کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پی آر اے کی خصوصی ٹیمیں صوبے کے مختلف شہروں میں اچانک چھاپے مارنے اور مانیٹرنگ کا عمل بھی تیز کر رہی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت نے عام شہریوں اور صارفین سے بھی خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ریسٹورنٹ یا شادی ہال میں بل کی ادائیگی کرتے وقت صرف کمپیوٹرائزڈ رسید کا ہی مطالبہ کریں اور ہاتھ سے لکھی گئی پرچی قبول کرنے سے گریز کریں۔ اگر کوئی دکاندار کمپیوٹرائزڈ رسید دینے سے انکار کرے تو اس کی شکایت فوری طور پر متعلقہ حکام کو درج کروائیں۔ صوبائی محکموں کے اس اہم کریک ڈاؤن اور دیگر ملکی و معاشی خبروں کی بروقت اور مستند اپڈیٹس کے لیے ڈسٹرکٹ نیوز میڈیا کی ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔
