پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ سے متعلق صحافی بلال غوری کو عدالت میں پیش کیاگیاجوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیااین سی سی آئی اے نے دس دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔این سی سی آئی اے تفتیشی نے کہایوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹ کی ریکوری دستیاب ہے ، وکیل حنظلہ حبیب نےکہاپانچ ستمبر کو ویلاگ اپ لوڈ ہوا ہے ، کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ڈائریکٹ ہی گرفتار کر لیا گیا ، وکیل حنظلہ حبیب نے کہاہماری عدالتوں کے حوالے سے جو رائے بن چکی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے ، وکیل عمران شفیق نے کہایہ پورا پروگرام یوٹیوب پر موجود ہے ، ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ کہ جو غلط ہو جھوٹ بولا گیا ہو ،جھوٹی معلومات بلال غوری کے ویلاگ میں کہاں ہے این سی آئی اے یہ بتا دے ،بلال غوری نے وہ نوٹیفکیشن پڑھا ہے جو جاری کیا گیا ہے ،صرف یہ بات بری لگ گئی کہ ان کی مزید ترقی ممکن نظر نہیں آتی یہ کونسا جھوٹ ہے ؟ وکیل عمران شفیق نے کہا جو نوٹیفکیشن پوری دنیا کو بھیجا گیا اس پر بلال غوری کو گرفتار کر لیا گیا ، جوڈیشل مجسٹریٹ نے بلال غوری سے استفسارکیا اس طرح کے الفاظ کیا آپ کو مناسب لگتے ہیں ؟ صحافی بلال غوری نےکہاادارے کی کارکردگی کے بارے میں بات ہو رہی تھی ،
میں فیصل نصیر کے خلاف نہیں نیکٹا کے بارے میں بات کر رہا ہوں ،جوڈیشل مجسٹریٹ نے استفسار کیا
آخر میں کیا کہا ہے آپ نے ؟ صحافی بلال غوری نےکہامیں نے یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے ، جج نےکہاکیا آپ کل میرے حوالے سے بھی یہ کہیں گے ؟ جو سیشن جج کہے گا وہ کریں گے ، صحافی بلال غوری نے کہاعدلیہ تو آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے کمانڈ کی ماتحت ہوتے ہیں ۔
