*دھرنے سے قبل علی امین گنڈاپور کی طبیعت ناساز، اسپتال منتقل؛ ڈاکٹروں کا مکمل آرام کا مشورہ*
ڈیرہ اسماعیل خان(فاروق بلوچ ،خصوصی رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو ڈیرہ) اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق علی امین گنڈاپور کو طبیعت خراب ہونے اور گردن میں تکلیف کی شکایت کے باعث اسپتال لے جایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان کا چند روز قبل گردن کا آپریشن ہوا تھا، جس کے بعد انہیں مسلسل تکلیف کا سامنا تھا۔ اسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور طبی حالت کا جائزہ لینے کے بعد ابتدائی علاج فراہم کیا، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق انہیں ڈرپ بھی لگائی گئی۔
طبی معائنے اور ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈاکٹروں نے سابق وزیراعلیٰ کو مکمل آرام کا مشورہ دیا، جس کے بعد انہیں اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق علی امین گنڈاپور کچھ وقت طبی نگرانی میں رہے اور بعد ازاں گھر منتقل ہوگئے۔
ایم این اے فیصل امین گنڈاپور کا اہم بیان،
دوسری جانب علی امین گنڈاپور کے بھائی اور رکن قومی اسمبلی فیصل امین خان گنڈاپور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ان کی گردن کی تکلیف اور حالیہ سرجری کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا۔ فیصل امین گنڈاپور کے مطابق علی امین گنڈاپور کو ماضی میں پنجاب پولیس کی تحویل کے دوران گردن کے پچھلے حصے میں بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے، جس کے باعث مبینہ طور پر ایک مسلسل تکلیف دہ زخم رہا اور بالآخر اس کے علاج کے لیے سرجری کی ضرورت پیش آئی۔
فیصل امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا کہ علی امین گنڈاپور کی گردن کے پچھلے حصے پر 9 ٹانکے آئے ہیں اور حالیہ طبی مسئلہ اسی سرجری سے متعلق ہے۔ انہوں نے ان تصاویر کو بھی اسی وضاحت کے لیے شیئر کرنے کی بات کی اور بعض افراد کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی صحت کے حوالے سے کیے جانے والے مبینہ پروپیگنڈے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کے اس بیان میں ماضی میں مبینہ طور پر بجلی کے جھٹکے دیے جانے کا دعویٰ شامل ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب رپورٹنگ سے نہیں ہو سکی۔
سیاسی سرگرمیوں کے دوران طبیعت ناساز
علی امین گنڈاپور کی طبیعت ایسے وقت میں ناساز ہوئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے سیاسی رابطوں اور تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں پارٹی کی جانب سے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی سرگرمیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
تاہم اسپتال سے طبی معائنے کے بعد گھر منتقل کیے جانے کے بعد فی الحال دستیاب رپورٹس میں علی امین گنڈاپور کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں میں شرکت یا آئندہ پروگرام کے حوالے سے کوئی نیا حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔
