ڈیرہ اسماعیل خان (خصوصی رپورٹ)
ڈیرہ اسماعیل خان کے رحیم بازار میں واقع تاریخی رام لیلا مندر کو مبینہ طور پر مسمار کرنے کا کام رحیم بازار کے صدر اور ڈیرہ سول سوسائٹی کے صدر سہیل احمد عظمی کی مداخلت پر رکوا دیا گیا۔ انہوں نے تاریخی عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے بھی رابطہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پاکستان نے ڈیرہ اسماعیل خان کی تقریباً 400 املاک کو ثقافتی ورثے میں شامل کر رکھا ہے، جن میں رام لیلا مندر بھی شامل ہے۔ مقامی سطح پر اس مندر کو تقریباً 200 سال قدیم تاریخی عمارت قرار دیا جاتا ہے، جو رحیم بازار میں واقع ہے۔
سہیل احمد عظمی کے مطابق چند سال قبل بھی اس مقام پر تجارتی پلازہ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم مداخلت کے باعث یہ کام روک دیا گیا تھا۔ اب دوبارہ عمارت میں توڑ پھوڑ اور اسے گرانے کا کام شروع ہونے پر وہ موقع پر پہنچے اور کارروائی رکوا دی۔
اس معاملے پر متعلقہ حکام سے بات چیت جاری ہے تاکہ تاریخی عمارت کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ تاریخی عمارتوں کا تحفظ شہر کی ثقافتی شناخت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو رام لیلا مندر کی قانونی حیثیت اور حفاظت کے حوالے سے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
