پاکستان میں رواں سال مون سون سیزن کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزرا کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مون سون میں غیر معمولی بارشوں کے باعث ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی کی لہروں کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، تاہم بہتر منصوبہ بندی، بروقت تیاری اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے کے دورے کے موقع پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ادارے کی استعدادِ کار بڑھانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال شدید سیلاب کے باوجود بروقت امدادی کارروائیوں کے باعث جانی نقصان کو محدود رکھا گیا، جو متعلقہ اداروں کی بہتر تیاری اور مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گلیشیئرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے خطرات کی نگرانی اور پیشگی اطلاع دینے کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ، چین کے تعاون سے ایک اہم منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد زرعی تحقیق کو فروغ دینا، ماہر افرادی قوت تیار کرنا اور ایسی فصلوں کی نئی اقسام متعارف کرانا ہے جو بدلتے موسم اور سخت موسمی حالات کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزارت خزانہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری مالی وسائل کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ وزارت آبی وسائل وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق پانی کے ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔