اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے خیبر پختونخوا میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری دیہی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے ٹینڈرنگ کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت اجلاس میں حکام نے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ کمیٹی ارکان نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ بعض منصوبوں میں ٹیکنیکل بولی سے پہلے فنانشل بولی کیوں کھولی گئی، جبکہ عالمی بینک کے قواعد کے مطابق پہلے ٹیکنیکل جانچ ہونا ضروری ہوتی ہے۔
اجلاس میں منصوبوں کی لاگت میں اضافے، ٹینڈرنگ کے عمل، مختلف کمپنیوں کو دیے گئے ٹھیکوں اور عالمی بینک کے قواعد پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ معاملے کا مکمل جائزہ لیا جائے، اگر قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کے لیے صوبائی حکومت کو سفارشات بھیجی جائیں۔
