کوئٹہ: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل کوئٹہ نے کسٹمز کی تحویل میں موجود مبینہ طور پر سینکڑوں کلوگرام چاندی کو سیسے سے تبدیل کرنے اور سرکاری مال میں خوردبرد کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق کیس میں سابق کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی سمیت 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں سرکاری اہلکار، نجی افراد اور بعض نامعلوم ملزمان بھی شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے ستمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر تقریباً 697.925 کلوگرام چاندی ضبط کی تھی۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس میں سے تقریباً 400 کلوگرام خالص چاندی کو مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کردیا گیا۔
دستاویز کے مطابق مبینہ طور پر تبدیل کی گئی چاندی کی مالیت 5 اپریل 2026 کو تقریباً 32 کروڑ روپے بنتی تھی۔
ایف آئی اے نے مقدمہ انکوائری نمبر 93/2026 مکمل ہونے کے بعد اسسٹنٹ کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ شہریار وسیم کی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا۔ انکوائری کے لیے شکایت چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کے دفتر سے بھیجی گئی تھی، جبکہ ایف بی آر کے متعلقہ حکام کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
ضبط شدہ چاندی کی قانونی حیثیت کیا تھی؟
ایف آئی آر کے مطابق ستمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران جن 21 مختلف مقدمات میں چاندی ضبط کی گئی، ان میں سے کسی کا حتمی فیصلہ اس وقت تک متعلقہ ایڈجوڈیکیٹنگ افسران کی جانب سے نہیں کیا گیا تھا۔
دستاویز کے مطابق چاندی کی ضبطی سے متعلق بھی کوئی حتمی حکم موجود نہیں تھا، جس کے باعث یہ سامان کسٹمز جنرل آرڈر CGO-12/2002 کے تحت فروخت یا تلفی کے لیے پاکستان منٹ لاہور منتقل کرنے کے مرحلے میں نہیں پہنچا تھا۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس قانونی صورتحال کے باوجود اس وقت کے کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی نے بعض ماتحت افسران کی تحریری رائے کے برخلاف ضبط شدہ چاندی پاکستان منٹ لاہور منتقل کرنے پر اصرار کیا۔
افسران نے قانونی طریقہ کار کی نشاندہی کی
ایف آئی آر کے مطابق 19 فروری 2026 کو اسٹیٹ ویئر ہاؤس کے انچارج انسپکٹر محمد زمان مزاری نے فائل پر نوٹ درج کیا، جس میں بتایا گیا کہ 11 مقدمات میں تقریباً 308,975.1 گرام چاندی جبکہ 5 مقدمات میں 4,775.34 گرام سونا مختلف قانونی فورمز پر زیرِ سماعت تھا اور ان کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
انسپکٹر محمد زمان مزاری نے تجویز دی کہ ضبط شدہ قیمتی اشیا کو متعلقہ کسٹمز قوانین اور CGO-12/2002 کی ہدایات کے مطابق محفوظ تحویل میں رکھا جائے۔
دستاویز کے مطابق اس تجویز کی اسی روز ڈپٹی کلیکٹر طارق حسین اور ایڈیشنل کلیکٹر یوسف علی مگسی نے بھی توثیق کی۔
تاہم ایف آئی آر میں الزام ہے کہ کلیکٹر کرم الٰہی نے فائل پر مختلف ریمارکس دیتے ہوئے پاکستان منٹ میں مال جمع کرانے پر زور دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر بعد میں معاملہ محکمہ کسٹمز کے خلاف فیصلہ ہوا تو رقم واپس کی جاسکتی ہے۔
پاکستان منٹ لاہور منتقلی کی ہدایات
ایف آئی آر کے مطابق 10 مارچ 2026 کو اسٹیٹ ویئر ہاؤس کے انچارج پریونٹیو آفیسر یاسر عرفات نے تقریباً 705,622.1 گرام ضبط شدہ چاندی سے متعلق 22 مقدمات کا سامان پاکستان منٹ لاہور بھیجنے کی تجویز پیش کی۔
تاہم متعلقہ نوٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تمام مقدمات ابھی ایڈجوڈیکیشن کے مرحلے میں تھے اور ان کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
دستاویز کے مطابق متعلقہ افسران نے واضح تحریری احکامات طلب کیے کہ ضبط شدہ سونا اور چاندی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں محفوظ رکھا جائے یا پاکستان منٹ لاہور منتقل کیا جائے، تاہم فائل پر ایسا کوئی واضح حکم موصول نہیں ہوا۔
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2 مارچ کو ایڈیشنل کلیکٹر یوسف مگسی کو کلیکٹر کرم الٰہی کی جانب سے واٹس ایپ پیغام موصول ہوا، جس میں سونے اور چاندی کا مکمل ڈیٹا تیار کرکے اسے پاکستان منٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔
اگلے روز ایک اور پیغام کے ذریعے سامان سے متعلق مقدمات کو مارچ میں ایڈجوڈیکیٹ کرکے چاندی اور سونا منٹ میں جمع کرانے کی ہدایت دی گئی۔
تحقیقاتی دستاویز کے مطابق ان پیغامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ متعلقہ افسر کو مقدمات کے زیرِ ایڈجوڈیکیشن ہونے کا علم تھا، اس کے باوجود ضبط شدہ چاندی پاکستان منٹ لاہور منتقل کرنے پر زور دیا گیا۔
چاندی کے وزن میں مبینہ تبدیلی کا الزام
ایف آئی آر کے مطابق 10 مارچ کو پاکستان منٹ لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کے نام ایک خط تیار کیا گیا، جس میں کسٹمز کوئٹہ کی جانب سے ضبط شدہ تقریباً 575,975.1 گرام چاندی کو ڈسپوزل کے لیے بھیجنے کا ذکر تھا۔
دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعد ازاں خط کے مسودے میں تبدیلی کرتے ہوئے چاندی کا وزن تقریباً 446 کلوگرام درج کیا گیا۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں ان تمام معاملات، سرکاری ریکارڈ، متعلقہ افسران کے اقدامات اور ضبط شدہ قیمتی دھات کی مبینہ تبدیلی کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران دستیاب ریکارڈ، بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مقدمے میں عائد الزامات کا حتمی تعین تحقیقات اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔
