نئی دہلی: بھارت میں ہندوتوا نظریے سے وابستہ تنظیموں کے مبینہ پرتشدد کردار کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بھارتی جریدے دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق آر ایس ایس رہنما یشونت سہدیو شندے نے آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یشونت شندے نے ان تنظیموں پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارت میں ماضی کے بعض بم دھماکوں اور پرتشدد واقعات کے حوالے سے ان کے کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
سابق رہنما نے مبینہ طور پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعض کارکنوں کو عسکری نوعیت کی تربیت فراہم کی جاتی رہی، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور متعلقہ تنظیموں کا مؤقف بھی اس معاملے میں اہم ہوگا۔
بھارتی سیاسی تجزیہ کار شمس الاسلام کے مطابق آر ایس ایس سے منسلک مبینہ پرتشدد سرگرمیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات نے بھارت میں ہندو مسلم تعلقات اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔
دی وائر کی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض مقدمات میں تحقیقاتی اداروں کی جانب سے شواہد پیش کیے جانے کے باوجود ملزمان کے خلاف کارروائیاں عدالتوں میں مختلف مراحل پر ختم ہوئیں۔ تاہم عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی نوعیت کے بارے میں مکمل قانونی ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔
دوسری جانب بھارتی سیاسی تجزیہ کار راجو پارولیکر نے بھی ہندوتوا تنظیموں کی سرگرمیوں پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے مبینہ بین الاقوامی روابط اور اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں مذہبی انتہاپسندی اور سیاسی نظریات کے باہمی تعلق کا معاملہ ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ ایسے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات نہ صرف ذمہ داروں کے تعین بلکہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور ملک میں سماجی امن کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے خلاف عائد کیے جانے والے مختلف الزامات کی نوعیت الگ الگ مقدمات اور واقعات میں مختلف رہی ہے، اس لیے کسی تنظیم یا فرد کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ عدالتی و تحقیقاتی ریکارڈ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
