اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے بعد اسپتال کو ملنے والے سرکاری فنڈز اور اخراجات کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر آگئی ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ تین برس کے دوران پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 22 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پمز کے لیے 6 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس عرصے میں تقریباً 7 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، یعنی مقررہ بجٹ سے زیادہ رقم استعمال ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پمز انتظامیہ کو گزشتہ سال اضافی طور پر 66 کروڑ روپے بھی فراہم کیے گئے تھے۔
رواں مالی سال کے لیے اسپتال کا بجٹ بڑھا کر 7 ارب 63 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
پمز کے مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے۔ گزشتہ عرصے میں اس مد میں اسپتال کو 50 کروڑ روپے دیے گئے، جبکہ رواں سال ریپیئر اینڈ مینٹیننس کے لیے 23 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
پمز نرسری کے افسوسناک واقعے کے بعد سامنے آنے والی یہ مالی تفصیلات اسپتال میں سہولیات، انتظامی نگرانی، مرمت اور حفاظتی اقدامات پر بھی سوالات اٹھا رہی ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار بذاتِ خود اس واقعے کی وجہ یا کسی انتظامی غفلت کو ثابت نہیں کرتے، جس کے لیے متعلقہ تحقیقات کے نتائج اہم ہوں گے۔
