اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آگ لگنے کی وجہ ابتدائی طور پر بتائے گئے اے سی کمپریسر یا شارٹ سرکٹ کے بجائے آکسیجن سے متعلق ایک آلے کا پھٹنا قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نرسری والے فلور پر لیبر روم اور کینگرو روم بھی موجود ہیں، جبکہ ماؤں کے لیے 8 کمرے مختص تھے۔ ان کمروں میں نومولود بچوں اور ان کی ماؤں کو بھی داخل کیا گیا تھا، جو واقعے میں محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق اگر آگ مزید پھیلتی تو ان ماؤں اور بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق نرسری کے باہر موجود دروازے کا تالا کھولنے میں تاخیر بھی امدادی کارروائی کے دوران ایک اہم مسئلہ بنی۔ ذرائع کے مطابق ایسی ہنگامی صورتحال میں یہ واضح نہیں تھا کہ نرسری کا تالا کھولنے کی ذمہ داری کس اہلکار کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی کا آغاز نوزائیدہ بچوں کے لیے استعمال ہونے والے انکیوبیٹر کے قریب موجود ایک ایسے نیبولائزر کے پھٹنے سے ہوا جس میں آکسیجن کی مقدار سے متعلق نظام موجود تھا۔ آکسیجن نے آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد شعلے تیزی سے پھیل گئے۔
ذرائع کے مطابق ابتدا میں آگ کی شدت کم تھی، تاہم بعد میں اس نے تیزی سے پورے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دھواں پائپوں کے ذریعے بچوں تک پہنچا، جس سے ان کی سانس لینے میں شدید دشواری پیدا ہوئی۔
ابتدائی رپورٹ میں بچوں کی اموات کی وجوہات میں آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونا، دھویں کے باعث سانس رکنا اور جھلسنے کے عوامل شامل کیے گئے ہیں۔
واقعے کی حتمی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہوگا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے حفاظتی انتظامات، ہنگامی رسپانس اور نرسری میں موجود آلات سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
