اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت جاری ہے اور پاکستان تہران کے خلاف عائد یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں جاری ہیں اور پاکستان پاک ایران تجارت کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ تاہم، اگر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی جائیں تو صورتحال مختلف ہوگی۔ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری
طاہر اندرابی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی قیادت نے بھی کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کے طور پر پیش کیے جانے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورے پاکستانی سفارتی کوششوں کا حصہ تھے۔
ترجمان کے مطابق فیلڈ مارشل کا دورہ تہران خالصتاً کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تھا۔
ایس سی او سربراہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ 31 اگست کو بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس منعقد ہوگا جس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم کی مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جبکہ پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
خطے میں امن کے لیے سفارتی رابطے
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی رہنماؤں سے رابطے جاری ہیں۔ ان کی ترک وزیر خارجہ سے حالیہ دنوں میں تین مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے لندن میں عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ سے ملاقات کے دوران صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر بھی بات کی، جبکہ برازیل، ازبکستان اور موریطانیہ کے وزرائے خارجہ سمیت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی اہم رابطے ہوئے ہیں۔
شام اور اسرائیل سے متعلق پاکستان کا مؤقف
طاہر اندرابی نے کہا کہ شام کے وزیر خارجہ نے 19 سال بعد پاکستان کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان شام کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
ان کے مطابق 22 اگست کو 11 مسلم ممالک نے شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے شام کے ایک فضائی اڈے پر اسرائیلی حملے کو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ترجمان نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو وہاں بستیاں قائم کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو غیرقانونی قرار دے چکی ہیں۔
افغانستان سے متعلق پاکستان کا مطالبہ
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغان عبوری حکومت کے وزیر دفاع کی جانب سے دوطرفہ میکنزم قائم کرنے کی تجویز کا نوٹس لیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ افغان طالبان کو زبانی دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ریاستی سطح پر ادارہ جاتی میکنزم کے قیام کے لیے تیار ہے اور توقع ہے کہ افغان طالبان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔
بھارت کے حوالے سے سخت ردعمل
ترجمان دفتر خارجہ نے سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے کیرانہ پہاڑوں سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ حقائق سے بنتی ہے، بالی ووڈ کے انداز کے بیانیوں سے نہیں۔
انہوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر توڑ پھوڑ پر ویانا کنونشن کے تحت احتجاج کیے جانے کی تصدیق بھی کی۔
اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام بلاتفریق کیا گیا اور تمام متعلقہ سفارتی مشنز کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی کارروائی کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والی کارروائی سے جوڑنا درست نہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
طاہر اندرابی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر سب متاثر ہو رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران بھی آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صورتحال کے حوالے سے پُرامید ہے، تاہم حتمی فیصلہ تہران اور واشنگٹن کو کرنا ہے۔
ترجمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس کے معاملے کو بھی وسیع البنیاد بحث کا حصہ قرار دیا۔
کشمیر اور آر ایس ایس سے متعلق مؤقف
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت میں امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے پر اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو ڈیمارش کیے جانے کی تصدیق کی۔
انہوں نے آر ایس ایس پر پاکستان مخالف اقدامات اور مسلمانوں کے خلاف تشدد و نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا، تاہم موہن بھگوت کے دورہ امریکا پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے اسے امریکا اور بھارت کا معاملہ قرار دیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان قیام امن کے لیے بات چیت کی بحالی کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
