فل کورٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مقدمات مقرر کرنے سے متعلق پالیسی ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہے، جس کے بعد ان کی ذاتی ہدایت پر بھی کسی مقدمے کو مقرر نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ججز تین ماہ کی چھٹیاں کرتے ہیں۔ ججز تین ماہ کے عرصے میں مجموعی طور پر ایک ماہ کی چھٹی لیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ بعض اوقات ایک ہی بینچ کے سامنے ایک دن میں 75 مقدمات مقرر ہوجاتے ہیں۔ کاز لسٹ میں شامل مقدمات کی جانچ پڑتال کے لیے دو افسران بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق جلد سماعت کی درخواستوں کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیا جا رہا ہے، جو ضروری مقدمات کی سماعت شام کے وقت بھی کرے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شریعت اپیلیٹ بینچ ہر دو ماہ بعد ایک ہفتے کے لیے اجلاس کرے گا۔
