نئے صوبوں کے کچھ مخالفین پاکستان کو نہیں مانتے، باقی ذاتی مفاد کے لیے مخالفت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں میں کچھ ایسے عناصر شامل ہیں جو پاکستان کے تصور کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ بعض لوگ اپنے مفادات کے باعث نئے صوبوں کی مخالفت کررہے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے نئے صوبوں، سندھ کی صورتحال، عوامی مسائل اور سعودی عرب سے اظہار یکجہتی سمیت مختلف امور پر پارٹی کا مؤقف پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر صغیر احمد بھی موجود تھے۔
مصطفیٰ کمال نے سعودی عرب کے حوالے سے کہا کہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ایک ہے اور حرمین شریفین کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان سعودی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور رہنمائی ملنے پر اس کے مطابق عمل کریں گے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مختلف نام دیے جائیں، ان کی جماعت اسے نئے صوبوں کا قیام ہی سمجھتی ہے۔ ان کے بقول نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرنے والوں کے مؤقف کے پیچھے مختلف وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام میں یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے کہ نئے صوبے بننے سے بدامنی اور خونریزی ہوگی، تاہم ان کے مطابق یہ خدشہ درست نہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کراچی اور اندرون سندھ میں شہری سہولیات کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے، جن میں نکاسی آب اور پینے کے پانی کی دستیابی بھی شامل ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے تمام باشندے ان کے لیے برابر ہیں اور سندھی، مہاجر کی بنیاد پر تقسیم کو ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ میں بھی عوام کو مختلف مسائل کا سامنا ہے اور کئی خاندان اپنے بچوں کے اغوا جیسے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے ماضی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ماضی کی بدامنی کے خاتمے کے لیے ان کی جماعت نے کردار ادا کیا اور اس مقصد کے لیے پارٹی قیادت کے اندر بھی اختلافات کے باوجود فیصلے کیے گئے۔
نئے صوبوں کے معاملے پر مصطفیٰ کمال نے آئین اور ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی تقسیم سے متعلق گنجائش آئینی فریم ورک میں موجود ہے۔ انہوں نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات اور وسائل کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے مختلف علاقوں کے عوام کو بہتر انتظامی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر کراچی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات سے متعلق بھی تنقید کی۔ انہوں نے مختلف منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی مشکلات اور قرضوں کا سامنا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث حکومت کے لیے کئی فیصلے مشکل ہوجاتے ہیں۔ ان کے مطابق قرض لینے والے ملک کو قرض دینے والے ادارے کی شرائط بھی دیکھنا پڑتی ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے اختیارات کے ساتھ عوامی مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی پوری ہونی چاہیے۔
پنجاب حکومت کی نئے صوبوں کے معاملے پر خاموشی سے متعلق سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خاموشی کو بعض اوقات رضامندی کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
