پی ٹی آئی رہنما کا پارٹی قیادت کو خط، مذاکرات اور احتجاج مؤخر کرنے کی تجویز
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو خط ارسال کرتے ہوئے موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر لانگ مارچ مؤخر کرنے اور ریاست سے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی ہے۔
شوکت یوسفزئی نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ملک کو بیرونی خطرات اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے حالات میں تحریک انصاف کو ملک کے دفاع کے معاملے پر حکومت اور ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پارٹی اپنے سیاسی مطالبات برقرار رکھتے ہوئے احتجاج کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر سکتی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے خط میں خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ممکنہ طور پر افغانستان کی جانب سے کسی حملے یا سیکیورٹی صورتحال کو جواز بنا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینے کا بیانیہ بھی سامنے لایا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی حکومت لانگ مارچ کے تناظر میں صوبائی حکومت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے۔
انہوں نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ کارکنوں کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے موجودہ حالات میں جذبات کے بجائے تدبر سے فیصلے کیے جائیں۔ ان کے مطابق ریاست سے تصادم کے بجائے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
خط میں شوکت یوسفزئی نے یاد دلایا کہ عمران خان ماضی میں بھی کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے لانگ مارچ ختم کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کے سامنے تصادم اور مذاکرات، دونوں راستے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے صلح حدیبیہ سے رہنمائی لیتے ہوئے کوئی قابلِ عمل راستہ تلاش کرے۔
شوکت یوسفزئی نے بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے کیونکہ اس وقت پوری قوم کی نظریں پارٹی قیادت پر ہیں۔
