قومی اسمبلی اجلاس: پی پی ایل دفتر کی منتقلی، پٹرولیم قیمتوں اور دیگر امور پر گفتگو
اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے ہیڈکوارٹر کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دیگر معاملات پر گفتگو کی گئی۔
پی پی ایل کے ہیڈکوارٹر کی منتقلی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے بتایا کہ کمپنی کے تمام افسران کراچی سے اسلام آباد منتقل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق پی پی ایل کے 536 ملازمین میں سے 140 کا تعلق کراچی سے ہے، جبکہ افسران کے اسلام آباد آنے جانے پر سالانہ 12 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔
سید نوید قمر نے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب وفاقی وزیر کی جانب سے دینے پر اصرار کیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے وزارتِ پیٹرولیم کے افسران کی عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے میاں خان بگٹی کو سیکرٹری پیٹرولیم سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ اسپیکر نے دریافت کیا کہ وزیر پیٹرولیم کس وقت ایوان میں آئیں گے۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ ایوان میں اس افسر کی موجودگی ضروری ہے جس کی ڈیوٹی مقرر کی گئی تھی۔ اسپیکر نے کہا کہ ایوان کو تماشا نہ بنایا جائے اور غیر حاضر افسر کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسر کی غفلت پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھنے اور ترقی کے معاملے کا جائزہ لینے کا بھی کہا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پی پی ایل کے دفتر کی منتقلی کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد میں دفتر منتقل کرنا معمول کا انتظامی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق دیگر سرکاری آئل کمپنیوں کے دفاتر بھی اسلام آباد میں ہیں تاکہ افسران اہم اجلاسوں میں شرکت کے لیے دستیاب ہوں، جبکہ ان کمپنیوں کے کارپوریٹ دفاتر کراچی میں بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی ایل کا اپنا بورڈ ہے اور ہیڈکوارٹر کی منتقلی کا فیصلہ بورڈ کی منظوری سے کیا گیا۔ بورڈ اجلاسوں میں شرکت کے لیے ارکان کے سفر پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی کی زیادہ تر آپریشنل سرگرمیاں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی پی ایل 2017 میں ایک ہزار ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہی تھی، تاہم اب پیداوار اس سطح کے تقریباً 60 فیصد تک رہ گئی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر علی پرویز ملک نے عالیہ کامران کو بتایا کہ قیمتوں کا اعلان سات روزہ رولنگ اوسط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور اوگرا شفاف طریقے سے قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ ان کے مطابق پہلے قیمتوں کا فیصلہ سالانہ یا ماہانہ بنیاد پر ہوتا تھا، تاہم اب عالمی منڈی کے رجحانات اور سپلائی چین برقرار رکھنے کے لیے روزانہ قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پارلیمنٹ کی لابیوں کو نو اسموکنگ قرار دیا جائے اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی سے متعلق قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ اسپیکر ایاز صادق نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی لابیوں میں سگریٹ نوشی کے لیے الگ جگہ مختص ہے اور ارکان کو بھی عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنا چاہیے۔
احسن اقبال نے سابق فاٹا اضلاع کے لیے مختص ساڑھے 13 ارب روپے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم مقامی آبادی کو سولر پینل فراہم کرنے کے لیے مختص کی گئی تھی، تاہم سابق تحریک انصاف حکومت اسے استعمال نہ کرسکی۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت مزید فنڈز فراہم کرکے اس منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔
رکن قومی اسمبلی عاصمہ ارباب عالمگیر نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کا حصہ ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے میں امن کی صورتحال بہتر ہوئی اور عوام نے اس کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے پر سرحد پار سے حکومت کی جا رہی تھی۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اجلاس میں تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں شریک تھے۔
