امریکا سے جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز بھی نشانہ بن سکتے ہیں، ایران
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات رک چکے ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ممکنہ تنازع کی صورت میں اپنے ردعمل کو روایتی فوجی اہداف سے آگے بڑھانے کا عندیہ دے رہا ہے۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، بشرطیکہ اس کے ذریعے معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کا راستہ نکلے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو ایران کے پاس جواب دینے اور اپنا ردعمل برقرار رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز عالمی ڈیجیٹل رابطوں اور ڈیٹا کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی کی تنصیبات جدید ڈیجیٹل نظام کا بنیادی حصہ ہیں۔
رپورٹ میں ممکنہ اہداف کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم کسی مخصوص انٹرنیٹ کیبل، ڈیٹا سینٹر یا اے آئی تنصیب پر حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
