ژوب (بیورو چیف رفیق قیصرانی) آل انجمن تاجران ژوب کے رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ژوب اور شیرانی میں گزشتہ دو ہفتوں سے موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام بالا سے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انجمن تاجران کے رہنماؤں باران خان کلیوال، عبدالغنی شیرانی، حاجی نادر خان بلوچ، حاجی محمد دین خروٹی، حبیب الرحمان کاکڑ، محمد رحیم شیرانی، امام شاہ، مولاداد قریشی، حکیم شاہ مندوخیل، سوشل ورکر عبدالرحمٰن شیرانی، قاری تیمور شیرانی اور دیگر نے کہا کہ موبائل انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ تاجروں، طلبا اور عام شہریوں کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، تجارت، بینکاری، روزگار، رابطوں اور معلومات کے حصول کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث آن لائن کاروبار کرنے والے تاجروں، دکانداروں، فری لانسرز اور دیگر کاروباری افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے طلبا بھی شدید متاثر ہیں اور انہیں آن لائن کلاسز، تعلیمی مواد اور امتحانات سے متعلق ضروری معلومات تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اسی طرح صحافیوں، سرکاری و نجی اداروں اور عام شہریوں کے لیے بھی بروقت معلومات کے حصول اور ضروری رابطوں میں دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے باوجود منتخب عوامی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خاموشی اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ انٹرنیٹ سروس کس وجہ سے بند ہے اور اس کی بحالی میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام، صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ اور ٹیلی کام حکام سے مطالبہ کیا کہ ژوب اور شیرانی میں موبائل انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انٹرنیٹ کی بندش کا سلسلہ برقرار رہا اور عوامی مشکلات کا ازالہ نہ کیا گیا تو تاجر برادری، طلبا، سیاسی جماعتیں اور شہری مشترکہ احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
اس موقع پر رہنماؤں نے کیسکو حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ ژوب شہر اور دیہی علاقوں میں صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک اور شام 6 بجے سے رات 3 بجے تک بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ شہریوں اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
