ایران سے مذاکرات یا فیصلہ کن اقدام، دونوں راستے زیرِ غور ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے سامنے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا سخت فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا آج ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی کوشش کی جائے یا اس کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیا جائے۔
امریکی صدر اس سے قبل جمعے کو بھی ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی آپریشن کا امکان ظاہر کر چکے تھے، جسے انہوں نے ’’ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا تھا۔ ان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت ایران سے متعلق سفارتی اور فوجی دونوں آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
امریکا کی جانب سے ممکنہ حملوں کے دوبارہ آغاز سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ آج ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس سے ریاست مشی گن روانگی کے موقع پر صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ آیا ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں اسی روز دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے پہلے سوالیہ انداز میں جواب دیا کہ کیا وہ ایسے اقدام کے بارے میں پہلے سے بتائیں گے، تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ آج کوئی حملہ نہیں ہوگا۔
امریکی صدر کے بیان کے باوجود ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی طویل المدتی حکمت عملی اور ممکنہ آئندہ اقدامات سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
