(ڈیلی ڈسٹرکٹ نیوز ڈیسک رپورٹ)
بھارت میں NEET اور UGC-NET امتحانات ( پیپر لیک اسکینڈل )اس وقت مرکزی حکومت کے لیے ایک سنگین انتظامی اور سیاسی شرمندگی کا باعث بن چکا ہے۔ لاکھوں محنتی طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگانے والے اس واقعے نے جہاں بھارتی حکومتی ڈھانچے اور امتحانی نظام کی قلعی کھول دی ہے، وہیں عوامی اور سیاسی سطح پر حکومت کے خلاف شدومد سے احتجاج کا سلسلہ بھی دیکھنے میں آیا۔
حکومتی ناکامی اور مظلوم طلباء پر ریاستی جبر
اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر کے لاکھوں طلباء اور ان کے والدین شدید ذہنی اذیت اور مشکلات کا شکار رہے۔ امتحانی شفافیت کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور سخت گرمی میں طلباء سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے رہے۔ عوام کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے اتنے بڑے گھپلے اور انتظامی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کی گئی اور ابتدائی طور پر مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے کے بجائے معاملے کو دبانے کی پالیسی اپنائی گئی۔
اپوزیشن کی شدید تنقید اور عوامی دباؤ
اپوزیشن لیڈران بشمول راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت کو شدید آڑے ہاتھوں لیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے شدید گرمی اور نامساعد حالات کے باوجود سڑکوں سے لے کر ایوانِ پارلیمنٹ تک طلباء کے حق کے لیے احتجاج کیا اور مظاہرے کیے، جس نے حکومت کو مکمل طور پر دفاعی موقع پر لا کھڑا کیا۔
مین اسٹریم میڈیا کا کردار اور عوامی تنقید
اس پورے واقعے کے دوران بھارتی مین اسٹریم میڈیا (Mainstream Media) کا کردار عوامی تنقید کا مرکزی نقطہ رہا۔ جہاں متبادل میڈیا (Alternative Media) اور سوشل میڈیا پر طلباء کے احتجاج اور اسکینڈل کے حقائق مسلسل سامنے لائے جا رہے تھے، وہیں مرکزی میڈیا کے ایک بڑے حصے پر الزام ہے کہ اس نے مسئلے کی سنگینی کو کم کرنے (Downplay) کی کوشش کی۔
عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے میڈیا کے اس کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے “حکومت کے ترجمان” کا کردار قرار دیا گیا۔ ہندوستان میں میڈیا کی مجموعی ساکھ پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں، جہاں یہ تاثر عام ہے کہ مین اسٹریم میڈیا غیر جانبدارانہ صحافت کے بجائے حکومتی پالیسیوں کے دفاع پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس اسکینڈل کے دوران بھی یہ دیکھا گیا کہ مرکزی میڈیا نے ابتدائی طور پر حکومتی بیانات پر انحصار کیا اور طلباء کی مشکلات اور احتجاج کو مناسب کوریج نہیں دی۔ میڈیا کے اس منفی امیج کی وجہ سے نوجوانوں اور عوامی سطح پر اس سے بددلی اور غصہ مزید بڑھ گیا۔
ذمہ داری سے فرار اور قائم رہتا عوامی غصہ
عوامی سطح پر شدید اشتعال اور وزیر تعلیم کے استعفے کے پرزور مطالبے کے باوجود، حکومت نے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کی ذمہ داری طے کرنے کے بجائے روایتی اقدامات کا سہارا لیا۔ اگرچہ قانونی اور حکومتی کارروائیوں کے باعث سڑکوں پر مظاہرے فی الوقت تھم چکے ہیں، لیکن اس اسکینڈل نے مودی حکومت کے انتظامی دعووں کا پول کھول دیا ہے اور عوام و نوجوانوں کے دلوں میں شدید بددلی اور غصہ برقرار ہے۔
خلاصہ :
NEET پیپر لیک اسکینڈل نے بھارت میں تعلیم اور امتحانی نظام کی بدانتظامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے معاملے کو دبانے کی کوششوں کے باوجود، لاکھوں طلباء اور ان کے والدین کو شدید مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل سڑکوں اور پارلیمنٹ میں احتجاج نے حکومت کے لیے شدید شرمندگی پیدا کی۔ اگرچہ حکومت نے تکنیکی و قانونی اقدامات کے ذریعے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس اسکینڈل نے مودی حکومت کے نظام پر عوامی اعتماد کو شدید ترین دھچکا پہنچایا ہے