آئی پی پیز سے جان چھڑانے کے دعووں کے باوجود نئے طویل مدتی معاہدوں کا انکشاف
اسلام آباد: حکومت کی جانب سے آئی پی پیز سے نجات اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے دعووں کے باوجود متعدد پاور پلانٹس کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے 30 سے 40 سال تک مؤثر رہیں گے، جبکہ مختلف پاور پلانٹس کے ساتھ معاہدوں کی مدت اور تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت نے بھی 2025 کے دوران چار آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق موجودہ حکومت نے جامشورو کول پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو نیا معاہدہ کیا، جس کی مدت 30 سال مقرر کی گئی ہے۔
یوں ایک جانب حکومت آئی پی پیز کے مالی بوجھ کو کم کرنے اور موجودہ معاہدوں پر نظرثانی کے اقدامات کا اعلان کرتی رہی ہے، تو دوسری جانب نئے طویل مدتی معاہدوں کے سامنے آنے سے توانائی کے شعبے میں حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آئی پی پیز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں، حکومتی ادائیگیوں اور توانائی کے شعبے میں مستقبل کی پالیسی کے حوالے سے اہم بحث کا باعث بن گیا ہے۔
