ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ممنوعہ قرار دیے گئے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چاروں آئل ٹینکرز آگ کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ ایرانی فورسز نے دو مزید بحری جہازوں کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق متاثرہ ٹینکرز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں واقع اس سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اسی دوران جہاز مبینہ طور پر سمندر میں نصب بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس اہم سمندری راستے کے قریب آئل ٹینکرز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کے بعد عالمی سطح پر بحری تجارت اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
تاہم تاحال متاثرہ بحری جہازوں کی شناخت، ان پر سوار عملے کی تعداد، ممکنہ جانی نقصان اور واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہوسکی
