اسلام آباد ہائیکورٹ نےفریقین 15 دن میں رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس جمع کروائیں، عدالت نےوزیراعظم پاکستان کو پیش کی گئی رپورٹس بھی ساتھ جمع کرانے کا حکم دیاہےچیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیاہے حکم نامہ میں کہاگیاہے کہ درخواست گزار کے مطابق پمز ایم سی ایچ نرسری میں 26 اگست 2026 کو آگ لگنے سے 14 نوائیدہ بچوں کی جانیں گئیں، درخواست گزار ناصر عظیم خان کے مطابق ان کا اپنا نوزائیدہ بیٹا ستمبر 2025 کے آگ کے واقعے میں فوت ہوا تھا، پمز فی میل نرسنگ ہاسٹل میں 6 جولائی 2026 کو بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، درخواست گزار نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اور ذمہ دار افسران کے خلاف آزادانہ انکوائری کی استدعا کی، حکم نامہ کے مطابق وکیل کے مطابق عہدے داروں کی غفلت، فرض میں لاپرواہی اور انتظامی ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا،سینیئر انتظامی عہدوں پر فائز افراد کے خلاف مؤثر احتساب نہیں ہے ، درخواست میں موقف
درخواست میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر افسران کی تعیناتیوں کی قانون کے مطابق جانچ کا مطالبہ کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک ڈیٹا، ڈیوٹی اور مینٹیننس ریکارڈ محفوظ کرنے اور انکوائری کی استدعا کی گئی، درخواست گزار کی جانب سے ذمہ دار افراد کے خلاف مجرمانہ اور محکماتی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی گئی، سرکاری اسپتالوں میں حفاظت، فائر سیفٹی اور ایمرجنسی انتظامات یقینی بنانا حکام کی ذمہ داری ہے، کیس کی آیندہ سماعت 28 ستمبر مقرر کی جاتی ہے۔
