افغانستان سے ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر وسطی ایشیا میں فوجی مشقیں
قازقستان: افغانستان سے دراندازی اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک کے دفاعی تعاون کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔
کلیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (CSTO) کے زیر اہتمام قازقستان میں ہونے والی ’’روبیژ 2026‘‘ فوجی مشقوں کا مقصد سرحدی دفاع کو مضبوط بنانا اور ممکنہ عسکریت پسندوں کی دراندازی سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
وسطی ایشیا کے امور پر نظر رکھنے والے جریدے ٹائمز آف سینٹرل ایشیا کے مطابق مشقوں میں خطے کو درپیش سرحدی سکیورٹی چیلنجز اور افغانستان سے ممکنہ خطرات کے تناظر میں دفاعی تیاریوں کو جانچا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تاجکستان بھی افغانستان سے ملحقہ سرحد پر سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرچکا ہے اور اضافی علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ تاجک سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد سرحد پار سے ممکنہ دہشت گردی کے خدشات مزید نمایاں ہوئے ہیں۔
دفاعی امور کے بعض ماہرین کے مطابق روبیژ 2026 مشقیں وسطی ایشیائی ممالک کی جانب سے افغانستان سے پیدا ہونے والے ممکنہ سکیورٹی خطرات کے مقابلے کے لیے اپنی مشترکہ دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ان مشقوں کے ذریعے رکن ممالک سرحدی نگرانی، فوجی رابطہ کاری اور ہنگامی صورتحال میں مشترکہ ردعمل کی صلاحیت کو جانچنے اور مزید مؤثر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
