ایران کا امریکی میزائل حملوں میں 11 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، شادی کی تقریب بھی زد میں
تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں امریکا کے تازہ میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوب مغربی صوبے خوزستان میں امریکی میزائل حملوں کے دوران تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے خوزستان کے ڈپٹی گورنر برائے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے امور کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ رات ہونے والے حملوں میں صوبے کے تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملوں کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔
دوسری جانب ایرانی ہلال احمر نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے علاقے سیریک میں ایک شادی کی تقریب بھی امریکی حملے کی زد میں آگئی۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق حملے میں ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق شادی کی تقریب میں موجود افراد بھی حملے سے متاثر ہوئے، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی مراکز منتقل کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خوزستان کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں کو بھی امریکی حملوں میں نشانہ بنایا گیا، تاہم ان حملوں سے ہونے والے مجموعی جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرچکی ہے۔ حالیہ لڑائی کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے جانی نقصان کے اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم خوزستان میں 7 افراد کی ہلاکت اور سیریک میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ ایران میں جاری فوجی کشیدگی کے انسانی اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔
