عالمی منڈی: امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے قطر کی ثالثی میں ہونے والی کوششوں نے عالمی تیل مارکیٹ پر مثبت اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی اور قطری حکام کے درمیان مسلسل تیسرے روز بھی سفارتی رابطے جاری رہے، جن کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچنا ہے۔
کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 3.68 ڈالر کم ہوکر 109.75 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو مجموعی طور پر 3.2 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 3.43 ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد اس کی فی بیرل قیمت 100.69 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات تھے۔
تاہم قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے تسلسل اور فوری طور پر کسی بڑی فوجی کارروائی کے سامنے نہ آنے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد مارکیٹ میں عارضی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششوں سے متعلق امیدیں برقرار ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر فوری اضافے کا دباؤ کم ہوا ہے۔
