اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی اووربلنگ کے باعث صارفین پر اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑا، جبکہ متعدد متاثرہ صارفین کو شکایت درج نہ کرانے کی صورت میں ریفنڈ بھی نہیں مل سکا۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین شاہدہ اختر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آڈٹ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف انہی صارفین کو اضافی وصول کی گئی رقم واپس کی جاتی ہے جو باقاعدہ ریفنڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں، جبکہ شکایت نہ کرنے والے صارفین کو ادائیگی واپس نہیں کی جاتی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر افنان اللہ خان نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی شہریوں نے بجلی کے بھاری بل ادا کرنے کے لیے اپنے زیورات تک فروخت کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 90 کروڑ 46 لاکھ یونٹس کے ریفنڈ سے متعلق اعداد و شمار میں بعض صارفین کا استعمال غیر معمولی حد تک زیادہ کیسے ظاہر کیا گیا، اور کیا اس میں صنعتی صارفین بھی شامل تھے۔
اس پر لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ ریفنڈ حاصل کرنے والوں میں کچھ صنعتی صارفین اور ٹیوب ویل مالکان بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوری کے لیے بعض عناصر جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں اور کچھ صارفین مبینہ طور پر ایسی ڈیوائسز نصب کرتے ہیں جن کے ذریعے میٹروں کی ریڈنگ میں مداخلت کی جاتی ہے۔
کمیٹی کے رکن حسین طارق نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک صارف کے بل میں ایک ہی دن میں 41 ہزار یونٹس شامل کیے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔
رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ کا مقصد بجلی تقسیم کار اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے، اس لیے تمام صارفین کو بلا تحقیق بجلی چور قرار دینا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق رپورٹ میں اداروں کی غفلت اور انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے مزید کہا کہ اگر صارف شکایت ہی نہ کرے تو اضافی یونٹس کا بوجھ اس پر برقرار رہتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں اووربلنگ کا اصل حجم سامنے آنے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
چیئرمین پی اے سی شاہدہ اختر نے کہا کہ بجلی صارفین پر ایسے یونٹس کا بوجھ ڈالنا جنہیں انہوں نے استعمال ہی نہیں کیا، انتہائی تشویش ناک ہے اور اس مسئلے کا مؤثر حل نکالا جانا چاہیے۔
اجلاس میں سیکریٹری توانائی نے بتایا کہ بعض بجلی کمپنیوں نے آڈٹ کے لیے مطلوبہ ریکارڈ تاخیر سے فراہم کیا، اس لیے معاملہ مکمل وضاحت تک بند نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت رواں سال ایک کروڑ ساٹھ لاکھ (16 ملین) اسمارٹ میٹر نصب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ اووربلنگ اور بجلی کے ضیاع پر قابو پایا جا سکے۔
سیکریٹری توانائی کے مطابق اسمارٹ میٹرز کی فراہمی کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بھی بات چیت کی جا رہی ہے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ اگر کسی صارف کا میٹر خراب ہوگا تو اس کی جگہ روایتی میٹر کے بجائے اسمارٹ میٹر نصب کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے معاملہ مزید جائزے کے لیے ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کی تفصیلی رپورٹ پی اے سی کے سامنے پیش کی جائے۔
