اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف سے دہشت گردی کے خلاف پالیسی سے متعلق 8 سوالات کے جواب طلب کرلیے۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا کہ اسے دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ خیبر پختونخوا میں طویل عرصے تک حکومت اور وفاق میں اقتدار کے دوران پارٹی کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے کس نے روکا۔
وزیر دفاع نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، اپیکس کمیٹی کے اجلاس، دہشت گردوں کی مذمت، افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں پر ردعمل اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہتی سے متعلق سوالات اٹھائے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سمیت دہشت گردی کو سہارا دینے والی مبینہ غیر قانونی معیشت کے خلاف اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔
خواجہ آصف نے مزید سوال کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے میں ابہام کیوں پیدا کرتی ہے اور دہشت گرد گروہوں کو خوارج قرار دے کر ان کی مذمت کیوں نہیں کرتی۔
انہوں نے صوبائی حکومت کے دور میں مبینہ کرپشن اور وسائل کے استعمال سے متعلق الزامات پر بھی پی ٹی آئی سے جواب مانگا۔
