اسلام آباد: خیبر پختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کو دستیاب وسائل اور ان کی استعدادِ کار سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے کو وفاق اور این ایف سی سے ملنے والے وسائل کے باوجود پولیس اور سی ٹی ڈی کی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں۔
رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور 25 مستقل اہلکار موجود ہیں، جبکہ قبائلی اضلاع میں پولیس انفرا اسٹرکچر بھی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے درکار ڈیٹا فرانزک کے سلسلے میں سی ٹی ڈی کا پنجاب کی ڈیٹا فرانزک لیبارٹری پر انحصار بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔
رپورٹس میں پولیس نفری کی کمی اور سیکیورٹی ڈیوٹیوں سے متعلق بھی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جس کے باعث صوبائی حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
