رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام زرعی یونیورسٹی پشاور میں طلبہ اور فیکلٹی ممبران کے لیے ایک خصوصی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد شرکائ کو آر ٹی ایس کمیشن کے قیام کے مقاصد، دائرہ کار، قانونی حیثیت اور شہریوں کو بروقت و شفاف عوامی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔چیف کمشنر آر ٹی ایس کمیشن محمد علی شہزادہ نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے قیام کے بنیادی مقاصد، ذمہ داریوں اور قانونی فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رائٹ ٹو پبلک سروسز قانون کا بنیادی مقصد شہریوں کو مقررہ مدت کے اندر سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا اور عوام کو اپنی قانونی حیثیت اور حقوق سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نہ صرف خود اپنے حقوق سے آگاہ ہوں بلکہ اپنے خاندانوں اور معاشرے کے دیگر افراد تک بھی اس پیغام کو پہنچائیں۔کمشنر آر ٹی ایس کمیشن شوکت علی یوسفزئی نے شرکائ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے آر ٹی ایس قانون کے عملی اطلاق، عوامی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار اور شہریوں کو دستیاب قانونی سہولیات کے بارے میں تفصیلی وضاحت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی آر ٹی ایس قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور تعلیمی ادارے اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔سیشن کی میزبانی ڈائریکٹر سپورٹس اینڈ یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر، بلال مروت نے کی۔ اس موقع پر طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے آر ٹی ایس کمیشن کے کردار اور عوامی خدمات سے متعلق مختلف سوالات کیے اور سیشن میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر فیکلٹی آف مالیکیولر اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر اقبال منیر نے شرکائ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے آر ٹی ایس کمیشن کی جانب سے طلبہ اور فیکلٹی کے لیے آگاہی سیشن کے انعقاد کو سراہتے ہوئے عوامی خدمات سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر اقبال منیر کی جانب سے چیف کمشنر محمد علی شاہزاد اور کمشنر شوکت علی یوسفزئی کو ان کی خدمات اور آگاہی کے فروغ میں کردار کے اعتراف میں شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
