شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد اور ان کے بھائی کو ملک میں جاری رہنے والے طویل تنازعے کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنا دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دمشق کی فوجداری عدالت نے بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے ریاستی اداروں کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے استعمال کیا۔
یہ فیصلہ اسد خاندان کے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط اقتدار کے خاتمے کے بعد خاندان کے خلاف آنے والی اہم عدالتی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران جج فخرالدین العریان نے کہا کہ بشار الاسد نے سرکاری اداروں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے لیے استعمال کیا۔
اسی مقدمے میں بشار الاسد کے ماموں عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔ انہیں جنوبی صوبے درعا میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائی کی نگرانی میں کردار ادا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
