سابق اقوام متحدہ عہدیدار کا دعویٰ، افغانستان میں متعدد شدت پسند تنظیمیں متحرک
افغانستان سے متعلق سیکیورٹی خدشات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی دہشت گردی سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے سابق عہدیدار ایڈمنڈ فٹن براؤن نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں متعدد شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہیں اور انہیں مختلف سہولتیں میسر ہیں۔
افغان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈمنڈ فٹن براؤن نے کہا کہ افغان طالبان حکومت القاعدہ کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانے، تربیت اور نئی بھرتیوں کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کے درمیان قریبی روابط موجود ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ افغان طالبان، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان تعاون پایا جاتا ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف سرحد پار کارروائیوں کے لیے مواقع ملتے ہیں۔ ان کے بقول افغانستان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ترکستان اسلامک موومنٹ اور جماعت انصار اللہ جیسے دیگر شدت پسند گروہ بھی موجود ہیں۔
سابق اقوام متحدہ عہدیدار کے مطابق افغان طالبان ان گروہوں کو پڑوسی ممالک پر دباؤ بڑھانے اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں مغربی ممالک کو افغان طالبان حکومت کو قابلِ اعتماد شراکت دار تصور نہیں کرنا چاہیے۔
دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے سرحد پار حملوں کی اجازت دی جاتی ہے یا شدت پسند گروہوں کو پناہ فراہم کی جاتی ہے تو یہ علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایڈمنڈ فٹن براؤن کے حالیہ بیانات نے افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی سے متعلق جاری بین الاقوامی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
