اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوچکی تھی، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کی آخری وقت میں سامنے آنے والی شرائط کے باعث معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں شریک بعض اپوزیشن رہنما اپنی جماعت اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے متاثر ہوئے، جس سے بات چیت کا عمل بھی متاثر ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے پہلے ہی روز وفاقی وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے کو اٹھایا تھا اور اس پر ابتدائی اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا۔
طلال چوہدری کے مطابق بعد ازاں مذاکرات میں شامل بعض افراد نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور اگلے روز حکومتی و اپوزیشن ٹیم دوبارہ مذاکرات میں شریک ہوئی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا تھا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں اپوزیشن کو سیاسی گنجائش دینے میں کوئی حرج نہیں، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر مکمل تعاون ضروری ہے۔
ان کے مطابق مذاکرات کے اگلے مرحلے میں دہشت گردی کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے کی توقع تھی، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے آخری وقت میں پیش کی جانے والی شرائط نے مذاکراتی عمل کو متاثر کردیا۔
