جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلاف اپنی جگہ، تاہم دونوں جانب ایک مناسب اور متوازن فاصلہ برقرار رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست میں بلاوجہ کی دشمنی، نفرت اور صرف مخالفت کی خاطر مخالفت سے گریز کیا جانا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان سے بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوال کیا گیا۔ انہوں نے مختصر ردِعمل دیتے ہوئے اسے اچھی پیش رفت قرار دیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا بنیادی کردار حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا اور ان کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
صوبوں سے متعلق معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاملے میں فوری طور پر حمایت یا مخالفت کی واضح لکیر کھینچنے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی تجویز یا فیصلے کی اصولی اور عملی حیثیت کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ موجودہ حالات اس کے لیے سازگار ہیں یا نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ قومی اور سیاسی معاملات پر رائے قائم کرتے وقت جذبات کے بجائے سنجیدہ بحث، مشاورت اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا زیادہ بہتر راستہ ہے۔
