کراچی: سندھ میں بہتر طرزِ حکمرانی، متوازن ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ سامنے آگیا۔
سندھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی سے عوامی مسائل مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اندرونِ سندھ کے کئی علاقوں میں آج بھی بجلی، پانی، گیس، سڑکوں اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق موجودہ انتظامی نظام میں دور دراز علاقوں کے مسائل بروقت حل نہیں ہو پاتے۔
ایک شہری نے شکوہ کیا کہ صوبے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تسلی بخش نہیں، کئی علاقوں میں سڑکیں، اسپتال اور اسکول بنیادی ضروریات کے مطابق موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے کی صورت میں مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ اور عوامی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوسکتی ہے۔
شہریوں کے مطابق نئے انتظامی نظام سے تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ وسائل کی زیادہ منصفانہ تقسیم بھی ممکن ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مؤثر انتظامی تقسیم سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر، سروس ڈیلیوری تیز اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کا عمل زیادہ آسان بنایا جا سکتا ہے۔
