اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر کروڑوں نام خارج کرنے، پُرامن مظاہرین کے خلاف کارروائیوں اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے الزامات پر مودی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے انتخابی فہرستوں میں مبینہ ردوبدل اور 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے جانے کے دعووں نے انتخابی شفافیت سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
رپورٹ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت میں احتجاج کے دوران موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں، جبکہ مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے اور من مانے طور پر حراست میں لینے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ تنظیم کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن سے منسوب بیان میں دہلی پولیس پر پُرامن احتجاج کے جواب میں غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں سے مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتیں بھی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کے دعووں نے شہریوں کے حقِ رائے دہی اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
مزید برآں، رپورٹ میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی کوریج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت میں احتجاج، پولیس کارروائیوں اور جمہوری اداروں کے کردار پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ تاہم، 13 کروڑ سے زائد ووٹرز کے نام خارج کیے جانے اور ان تبدیلیوں کے سیاسی مقاصد سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
