نئی دہلی: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک مسیحی خاتون کی تدفین کے معاملے پر تنازع سامنے آیا ہے، جہاں ایک رپورٹ کے مطابق خاندان کو تدفین کے لیے ہندو مذہبی رسومات اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔
عالمی جریدے دی کرسچن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق واقعہ چھتیس گڑھ میں پیش آیا، جہاں مسیحی خاتون کی تدفین کے دوران مبینہ طور پر ہندو رسومات پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
مقامی پادری نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ظلم کی انتہا قرار دیا اور کہا کہ بھارت میں مسیحی برادری کو مذہبی رسومات کی ادائیگی اور تدفین جیسے معاملات میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرِ اقتدار چھتیس گڑھ میں مسیحی برادری کے خلاف مبینہ تشدد اور مذہبی دباؤ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم، واقعے سے متعلق دیگر فریقین کا مؤقف یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ مزید تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
