اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ہونے والی گفتگو میں دوطرفہ تعلقات اور تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات ہوئی۔
شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف مشترکہ کوششوں سے حاصل کیا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک، زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے سے دونوں ملکوں کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
مذاکرات میں سرحدی تجارت کو فروغ دینے، بارڈر کراسنگ کو 24 گھنٹے فعال رکھنے، کسٹمز نظام کو بہتر بنانے اور لاجسٹک سہولیات میں بہتری لانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ کان کنی، قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی دونوں فریق متفق ہوئے۔
وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایرانی وزیر سید محمد اتابک نے پرتپاک استقبال پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) سے متعلق تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔
ملاقات میں وفاقی وزرا، وزیر مملکت، معاونین خصوصی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
