وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے ون کانسٹیٹیوشن منصوبے میں مبینہ فراڈ سے متاثر ہونے والے افراد کو معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں ہونے والی مبینہ دھوکا دہی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کابینہ نے آج منظور کرلی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق رپورٹ میں منصوبے کا نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، کیونکہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا نام بھی مبینہ طور پر جعل سازی کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے میں تمام قواعد و ضوابط کو نظرانداز کیا گیا اور بے ضابطگیوں کے معاملے میں سی ڈی اے کی جانب سے بھی کوتاہی ہوئی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ منصوبے سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پر پہلی عمارت وزارت خارجہ کی ہے، جبکہ منصوبے سے متاثرہ افراد کو معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سہولت کاری کے ذریعے لوگوں کو لوٹا گیا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کو ریفرنس دائر کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو نقصان پہنچا، ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے مزید تحقیقات کے لیے نیب کو سفارشات ارسال کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ نیب معاملے کی میرٹ پر تحقیقات کرے گا۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا اور اس منصوبے کو چند ماہ کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کابینہ رپورٹ کی منظوری دے چکی ہے، جس کے بعد حکومت کو منصوبے کا قبضہ حاصل ہوگیا ہے اور متاثرین کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
