اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جن میں معاشی کارکردگی اور مختلف شعبوں میں اصلاحات سمیت اہم امور زیر بحث ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے ساورن ویلتھ فنڈ اور گردشی قرض میں کمی کے اقدامات سے متعلق آئی ایم ایف کو بریفنگ دی۔ مذاکرات میں چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات، کرنٹ اکاؤنٹ، پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ کی صورتحال پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے ساتھ ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس اصلاحات پر بات ہوگی، جبکہ نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔
وزارت توانائی گردشی قرض اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق امور پیش کرے گی، جبکہ صوبوں کی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بہتر بنانے کے اقدامات بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
