پی ٹی آئی احتجاج اور دھرنے سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں حلف نامہ جمع کرانے پر خیبرپختونخوا حکومت نے آئی جی پولیس کے خلاف ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ حلف نامہ ایڈووکیٹ جنرل آفس کی منظوری اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو اعتماد میں لیے بغیر عدالت میں جمع کرایا گیا، جو پیشہ ورانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا ہے کہ اگر معاملہ اسی نوعیت کا رہا تو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کے لیے وفاق سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں دھرنے سے متعلق کیس کے دوران چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سے حلف نامہ طلب کیا گیا تھا، تاہم آئی جی پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف نامے کی صوبائی حکومت سے منظوری نہیں لی گئی۔
صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صوبے کے چیف لا آفیسر ہیں اور کسی بھی سرکاری محکمے کی جانب سے عدالت میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت اے جی آفس کے ذریعے جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں کہ جمع کرائے گئے حلف نامے میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
آفتاب عالم کے مطابق اہم نوعیت کے معاملے میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر ایسا اقدام کرنا پیشہ ورانہ غیر ذمہ داری ہے اور ضرورت پڑنے پر وزیراعلیٰ کو معاملے سے آگاہ کرکے وفاق سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
