اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے سرکاری و نجی شعبے میں ہفتے کے 4 دن کام اور 3 دن تعطیل کی تجویز زیر غور آنے کی اطلاعات ہیں۔
نجی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی سطح پر زیر غور تجویز کے تحت نئے ورکنگ شیڈول کا اطلاق سرکاری و نجی دفاتر کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں اور جامعات پر بھی کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت ہفتے میں 3 دن اداروں کو مکمل طور پر بند رکھنے کی تجویز ہے، جس کا مقصد ایندھن، بجلی اور دیگر انتظامی اخراجات میں کمی کرکے قومی وسائل کی بچت کرنا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ محکموں کو نئے شیڈول کے حوالے سے انتظامات اور ضابطہ کار تیار کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ مجوزہ نظام میں بعض ملازمین کو دفاتر سے کام کرنے جبکہ دیگر عملے کو ورک فرام ہوم کی سہولت دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے طریقہ کار سے متعلق حتمی تفصیلات سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سامنے آئیں گی، جس میں ملازمین کی حاضری، دفتری اوقات اور اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق مجوزہ اقدام کا بنیادی مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی طلب اور مجموعی توانائی کے استعمال کو کم کرنا، بجلی و ایندھن کے اخراجات میں کمی لانا اور موجودہ مالی دباؤ کو محدود کرنا ہے۔
تاہم اس حوالے سے تاحال حکومت کی جانب سے کسی حتمی فیصلے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ ہفتے میں چار روز کام اور تین روز تعطیل سے متعلق اطلاعات فی الحال نجی میڈیا کی ذرائع پر مبنی رپورٹس تک محدود ہیں۔
