اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا ہے کہ پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا ہے، جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر کی خریداری کی گئی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ جولائی کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے اور واجبات ادا کیے۔ ان کے مطابق اس میں چین کو واپس کیے گئے 1.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کے علاوہ 80 کروڑ ڈالر کے دیگر واجبات بھی شامل ہیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ چین کی جانب سے اس کمرشل قرض کی دوبارہ فنانسنگ آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے، جبکہ اس حوالے سے تکنیکی امور پر کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتی پالیسی کے تحت گزشتہ تین سال میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانے کے لیے 28 ارب ڈالر کی خریداری کی گئی، جس سے مالیاتی استحکام کو تقویت ملی۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی قرض ادائیگیوں کا حجم 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گیا ہے، جس میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر سود کی ادائیگیوں کی مد میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے سعودی عرب اور چین سے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے رول اوور کی ضرورت ہوگی۔
معاشی ماہرین کے مطابق بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی پاکستان کی مالیاتی ساکھ کو بہتر بنانے اور عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چین کی جانب سے قرض کی دوبارہ فنانسنگ مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور معیشت پر قلیل مدتی دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔