پشاور: کرم ڈسٹرکٹ میں سیکیورٹی فورسز نے 8 ستمبر 2026 کو خوارج کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک مطلوب خارجی سمیت 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے خارجی کی شناخت عبید اللہ سعد ولد غلام غوث صالحی کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ لوگر کے علاقے شاہی قلعہ کا رہائشی اور کالعدم فتنۃ الخوارج سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عبید اللہ سعد پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا تھا اور سیکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرم میں ہونے والے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے افغان شہری سمیت 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مؤثر کارروائی کا نتیجہ قرار دیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوان قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور پوری قوم امن کے قیام کی کوششوں میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
