مین لائن:
کوہاٹ پولیس مسجد دھماکا، خودکش بمبار کی شناخت سے متعلق اہم پیش رفت
کوہاٹ (ڈسٹرکٹ نیوز): کوہاٹ پولیس مسجد میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے مبینہ حملہ آور کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق واقعے میں افغان شہری کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بعد پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور سرحد پار عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔
پاکستانی حکام کی جانب سے ماضی میں بھی افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں اور سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے الزامات اور تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق گزشتہ عرصے کے دوران سرحدی علاقوں میں دراندازی کی کوششوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں، جبکہ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر سامنے آتا رہا ہے، تاہم مختلف گروہوں کی موجودگی، ان کے باہمی روابط اور افغان حکام کے کردار سے متعلق دعوؤں کی نوعیت الگ الگ ہے۔
کوہاٹ مسجد دھماکے میں دوسرے مبینہ حملہ آور کی شناخت اور واقعے کے دیگر پہلوؤں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات جاری ہیں۔
