گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پانچویں روز بھی جاری، حکومت سے مذاکرات ناکام
کراچی: وفاقی حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، جس کے بعد ملک بھر میں مال بردار گاڑیوں کی ہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہے اور اسے اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک جاری رکھا جائے گا۔
ان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی، جس کی سربراہی وفاقی وزیر مواصلات کر رہے ہیں، کے ساتھ ہونے والی بات چیت بھی بے نتیجہ رہی۔
ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز اس مرتبہ صرف زبانی یقین دہانیوں پر ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق تمام مطالبات کی منظوری تحریری طور پر دیے جانے کے بعد ہی پہیہ جام ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ٹرانسپورٹرز ماضی کی طرح چند یقین دہانیوں کے بعد احتجاج ختم کردیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول وفاقی اور سندھ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے دعویٰ کیا کہ ہڑتال کے باعث ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے، تاہم اس کے باوجود مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری میں اگر کئی ماہ بھی لگ گئے تو احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
مذاکرات کا پہلا دور بھی بے نتیجہ رہا
یاد رہے کہ حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے پیش رفت کی یقین دہانی کرائی تھی۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات قانونی اور جائز ہیں اور ان کا تعلق شعبے کے بنیادی مسائل سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مطالبات تسلیم کیے جانے تک ملک بھر میں جاری پہیہ جام ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
مذاکرات کے دوسرے دور کی ناکامی کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مزید طول پکڑنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ملک میں سامان کی ترسیل اور مختلف کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
