لورالائی
یونیورسٹی آف لورالائی نے زیتون کی کاشت، تحقیق، جدید پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سلطنت اردن کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کے امکانات تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اس حوالے سے وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ نے اردن کے سفیر ڈاکٹر معین خریسات سے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں زیتون کے شعبے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، پیداوار میں اضافے اور کاروباری مواقع کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی کا زیتون منصوبہ تقریباً 220 ایکڑ پر محیط ہے، جہاں تقریباً 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں۔ منصوبے کو مستقبل میں تحقیق، پیداوار، تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے جامع مرکز میں تبدیل کرنے کا وژن ہے، جس میں جدید نرسری، معیاری پودوں کی تیاری و فراہمی، جدید طریقے سے زیتون کے تیل کی کشید و پراسیسنگ، لیبارٹری و تحقیقی سہولیات، معیار کی جانچ اور جدید زرعی طریقوں کا فروغ شامل ہے۔
یونیورسٹی کسانوں، طلبہ اور محققین کے لیے جدید آبپاشی، برداشت اور بعد از برداشت طریقوں کی تربیت کے ساتھ زیتون سے تیار ہونے والی ویلیو ایڈڈ مصنوعات، پیکجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے ذریعے مقامی پیداوار کو قومی و عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات پر بھی کام کر رہی ہے۔
ملاقات میں یونیورسٹی کے مرکز برائے کاروباری سرگرمیوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا، جو پہلے ہی 16 کمپنیوں کو کاروباری سہولیات اور رہنمائی فراہم کر چکا ہے۔ اس تجربے کو زیتون کے شعبے میں نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنے اور انہیں مکمل ویلیو چین کا حصہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دونوں جانب سے اردن کے زیتون کے شعبے میں حاصل تجربات سے استفادہ کرنے اور یونیورسٹی آف لورالائی، اردن کی جامعات، تحقیقی اداروں، سرکاری تنظیموں اور متعلقہ اداروں کے درمیان روابط قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ مجوزہ تعاون میں مشترکہ تحقیق، ماہرین و طلبہ کے تبادلے، تربیتی پروگرامز، نرسری ڈویلپمنٹ، جدید کشید ٹیکنالوجی، لیبارٹری ٹیسٹنگ، معیار و سرٹیفکیشن، ویلیو ایڈیشن اور برانڈنگ شامل ہیں۔
یونیورسٹی کی جانب سے زیتون کے شعبے میں ’’فارم ٹو بوتل‘‘ نظام کے قیام کا وژن بھی پیش کیا گیا، جس کے تحت نرسری اور باغات سے لے کر کاشت، برداشت، تیل کی کشید، لیبارٹری ٹیسٹنگ، معیار، سرٹیفکیشن، پیکجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ تک تمام مراحل کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جائے گا۔
وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ نے اردن کے سفیر کے تعاون اور مفید تبادلہ خیال کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور فنی روابط مزید مستحکم ہوں گے اور زیتون کے شعبے میں تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔
یونیورسٹی آف لورالائی کا یہ اقدام بلوچستان میں زیتون کے شعبے کی ترقی، جدید زرعی تحقیق، نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع اور پاکستان و اردن کے ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
