اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے دو نئے انڈر پاسز تعمیر کرنے کا فیصلہ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک مینجمنٹ اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ شہری سہولیات میں اضافے کے لیے نئی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے دو نئے انڈر پاسز تعمیر کیے جائیں گے، جن پر عملی کام اگلے ماہ شروع کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ان نئے منصوبوں میں کشمیر چوک انڈر پاس اور فیصل مسجد انڈر پاس شامل ہیں۔ دونوں منصوبوں کا مقصد اہم شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا، سفر کا دورانیہ مختصر کرنا اور شہریوں کے لیے آمدورفت کو مزید محفوظ اور آسان بنانا ہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی کام کے دوران معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں جدید انجینئرنگ اصولوں کو مدنظر رکھا جائے تاکہ شہریوں کو طویل مدت تک معیاری انفراسٹرکچر میسر آ سکے۔
سی ڈی اے حکام نے اجلاس کو مختلف جاری منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دارالحکومت میں ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ مستقبل میں بھی مزید انفراسٹرکچر منصوبے متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث کئی اہم چوراہوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ چکا ہے۔ ایسے میں نئے انڈر پاسز کی تعمیر نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنائے گی بلکہ روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کے وقت اور ایندھن کی بھی بچت ہوگی۔
کشمیر چوک اور فیصل مسجد اسلام آباد کے اہم ترین ٹریفک پوائنٹس میں شمار ہوتے ہیں جہاں مختلف اوقات میں گاڑیوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے۔ ان مقامات پر انڈر پاسز کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ٹریفک سگنلز پر انحصار کم ہوگا اور گاڑیوں کی روانی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے دوران عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران متبادل ٹریفک پلان، واضح رہنمائی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔
حکومت کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر کی بہتری، جدید ٹریفک نظام اور شہری سہولیات میں اضافہ دارالحکومت کی ترقی کے لیے اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف اسلام آباد کے رہائشیوں کو سہولت ملے گی بلکہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے مسافروں کے لیے بھی سفر مزید آسان اور محفوظ ہو جائے گا۔
