اسلام آباد: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے مالی اور انتظامی امور میں نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے گزشتہ دو مالی سال کے دوران مختص بجٹ کا تقریباً 30 فیصد خرچ ہونے سے بچا لیا، جبکہ ملازمین کی مجموعی تعداد میں بھی 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے مطابق مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے لیے مختص مجموعی طور پر 29 ارب روپے کے بجٹ میں سے تقریباً 8.6 ارب روپے استعمال نہیں کیے گئے اور یہ رقم قومی خزانے کو واپس کر دی گئی۔
سیکریٹریٹ کے ایک سینئر افسر کے مطابق واپس کی گئی رقم مجموعی مختص بجٹ کا تقریباً 30 فیصد بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی سال کے لیے مختص 17 ارب روپے کے بجٹ میں بھی نمایاں بچت متوقع ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ انتظامی اخراجات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں 302 اسامیاں ختم کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں ملازمین کی مجموعی تعداد میں تقریباً 20 فیصد کمی واقع ہوئی۔
ذرائع کے مطابق تقرریوں کے عمل میں صوابدیدی اختیار کم کرنے کے لیے قوانین اور واضح ضوابط پر مبنی نیا سروس سسٹم بھی نافذ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھرتیوں اور تقرریوں کے عمل کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے باعث تقرریوں کے حوالے سے اسپیکر پر سیاسی دباؤ کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں اور انتظامی امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلانے میں مدد ملی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت بھی سرکاری اداروں کے حجم میں کمی اور اخراجات کو محدود کرنے کے لیے سول سروس اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی سطح پر ملازمین کے مالی معاملات میں بہتری کے لیے مختلف الاؤنسز اور دیگر اقدامات بھی کیے گئے ہیں، تاہم بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسے ایڈہاک مالی اقدامات سے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان مراعات کا فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے بجٹ میں کمی اور انتظامی ڈھانچے کو محدود کرنے کے اقدامات کو سرکاری اداروں میں اخراجات کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
