“افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ؟ برطانوی نمائندے کے اعتراف نے خطے میں ہلچل مچا دی”
کابل/اسلام آباد: افغانستان میں برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے ایک اہم بیان میں اعتراف کیا ہے کہ فتنہ الخوارج ایک دہشت گرد گروہ ہے جسے افغانستان سے حمایت حاصل ہے۔ افغان ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ کے قبائلی سرحدی علاقوں میں خاندانی روابط اور سہولت کار بھی موجود ہیں، جبکہ کابل اور قندھار میں طالبان حکام کو اس خطرے کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔
رچرڈ لنڈسے کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج کے تربیتی کیمپس موجود ہیں جہاں دہشت گردوں کو تربیت، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی آپریشنز سے فرار ہونے والے عناصر کے لیے افغانستان ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔
برطانوی نمائندے نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے جس کے باعث پاکستان کی جانب سے فوجی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت، تربیت اور اسلحے کی فراہمی کے نتائج مختلف سیکیورٹی آپریشنز اور دہشت گرد کارروائیوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
