افغانستان میں طالبان حکومت کے مخالف مسلح گروہوں نے مختلف صوبوں میں نئی کارروائیوں کے دعوے کرتے ہوئے متعدد حملوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سکیورٹی صورت حال اور مختلف علاقوں میں مسلح سرگرمیوں کے حوالے سے مسلسل اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں، قندھار اور سرِپل میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ کے مطابق صوبہ بدخشاں میں طالبان وزارتِ معدنیات کے نائب وزیر عبدالمتین سعید کے قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
گروپ نے دعویٰ کیا کہ حملے کے نتیجے میں نائب وزیر کے قافلے میں شامل 6 محافظ ہلاک جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے صوبہ قندھار کے ضلع ارغنداب میں طالبان کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق کارروائی میں ایک طالبان اہلکار ہلاک ہوا جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ بھی قبضے میں لیا گیا۔
گروپ نے صوبہ سرِپل کے ضلع البدر میں بھی طالبان کی ایک سکیورٹی چوکی پر حملے کی اطلاع دی ہے۔ اس کے دعوے کے مطابق شدید جھڑپ کے بعد چوکی پر قبضہ کرلیا گیا، جس کے دوران ایک طالبان اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
تاہم ان کارروائیوں میں ہونے والے جانی نقصان اور دیگر تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
